Author: SHAHID JAVED

Environmental Engineer from Lahore, Pakistan. An Australian immigrant these days living in Sydney, Australia.

Well done Ignorant Molvi Khadim (In Urdu)

Khatam-en

Advertisements

Top 10 Best Male TV Drama Roles performed by Pakistani Actors

Friends this is just my opinion and choice. You may differ with the list and their rankings, but all of these are the legendary actors.

10. Shakeel for An-Kahi

Shakeel.jpg

9. Kashif Mehmood for Bulandi

Kashif Mehmood

8. Abid Ali for Samundar

Abid Ali

7. Sajid Hassan for Thorri Si Wafa Chahiye

Sajid Hassan

6. Fawad Khan for Humsafar

Fawad Khan

5. Shafi Muhammad for Aanch

Shafi-Muhammad-Shah

4. Nauman Ejaz for Man-O-Salwa

NAuman Ejaz MOS.jpg

3. Asif Raza Mir for Tanhaiyan

Asif Raza Mir

2. Nauman Ejaz for Jackson Heights

Nauman Ejaz JH

and top of the list is……….

One and only;

1. RAHAT KAZMI (Dr. Ahmar of Dhoop Kinaray)

Rahat Kazmi

Punjab Nahi Jaoongi (Film review in Urdu)

PNJG

پنجاب نہیں جاؤں گی ۔ اداکار و پروڈیوسر ہمایوں سعید کی اچھی کاوش

 پاکستانی فلم انڈسٹری کے لئے ۲۰۱۷ ایک بہتر سال ثابت ہو رہا ہے۔ اب تک تین اردو فلمیں یلغار، پنجاب نہیں جاؤں گی اور نا معلوم افراد 2 کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔ خوش قسمتی سے آسٹریلیا میں رہنے والے پاکستانیوں کے لئے یہ فلمیں یہاں کے سینما گھروں میں بھی نمائش پذیر ہیں اور پاکستانی  فیملیز بڑے شوق سے انہیں دیکھنے پہنچیں۔

جب سے فلم انڈسٹری کراچی منتقل ہوئی ہے تکنیکی طور پر بہتر فلم سازی ہو رہی ہے۔ پرنٹ اور آواز کی کوالٹی بہت  بہتر ہو گئی ہے اور نئے اور جدید سینما گھر  بھی تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ تاہم دوسری طرف ایک کمی جو نظر آرہی ہے وہ یہ کہ یہ فلمیں ڈراموں کے انداز میں ہی بنائی جا رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کافی فلمیں فلاپ بھی ہوئی ہیں۔

خیر، اب آتے ہیں ؛پنجاب نہیں جاؤں گی ؛ کی طرف جو حال ہی میں ریلیز ہوئی ہے اور میں نے خود سڈنی میں ایک سینما میں جا کر یہ فلم دیکھی۔ فلم پنجاب کے پس منظر میں بنائی گئی ہے اور لاہور کے بہترین ٹی وی  اداکاروں سہیل احمد، وسیم عباس،صبا حمید، نوید شہزاد اور ابھرتے ہوئے احمد علی بٹ نے اپنے کرداروں سے فلم میں جان ڈال دی۔

ہمایوں نے ایک پنجابی جوان کا کردار بڑی خوبصورتی سے ادا کیا ہے اور پنجابی تلفظ میں اردو اور انگریزی بولی ہے جو کافی مزیدار لگی۔ مہوش حیات نے کراچی کی ایک ماڈرن لڑکی کا کردار بہت خوبی سے نبھایا ہے، جبکہ عروہ حسین نے پنجابی جٹی کا کردار احسن طریقے سے نبھایا ہے۔ فلم کی خوبیوں میں اچھا مزاح، بہت اچھی موسیقی، عمدہ اداکاری اور اداکاروں کا بہتر انتخاب نمایاں ہیں۔ بہت خوبصورت سیٹ استعمال کئے گئے ہیں اور رائٹر خلیل الرحمان قمر کے ڈائیلاگ بھی بہت متاثر کن ہیں۔ سہیل احمد نے ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک زبردست اداکار ہیں، جبکہ نوید شہزاد نے بھی کمال کے ڈائیلاگ بولے ہیں۔ اس فلم میں ایک گانا؛ اے دل ؛ موجود ہے جو آپ کے دل کو چھو جاتا ہے۔ اسے پاکستانی فلم انڈسٹری کے چند بے حد خوبصورت گانوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ڈانس بھی کافی بہتر ہیں اور آپ کو بالی وڈ فلموں کے سٹینڈرڈ کے محسوس ہوتے ہیں۔

جہاں فلم میں بہت سی خوبیاں ہیں، وہیں چند معمولی نوعیت کی خامیاں بھی ہیں جن پر توجہ دے کر آنے والے دنوں میں بہتر فلمیں بنائی جا سکتی ہیں۔ پہلی خامی بعض سنجیدہ نوعیت کے سینز میں بلاوجہ مذاق کو گھسیٹنا ہے جو اچھا نہیں لگا۔ دوسرے اس فلم کی کہانی بہت سادہ ہے اور ٹی وی ڈرامہ ؛دل لگی؛ سے متاثر دکھائی دیتی ہے جہاں ہمایوں سعید، مہوش حیات اور صبا حمید انہی کرداروں میں تھےاور میاں، بیوی کی لڑائی ہی موضوع تھا۔ اسی طرح مہوش حیات کو ایک حد تک لالچی دکھایا گیا ہے جو بہت عجیب لگا کہ جائیداد کے لالچ میں آ کر وہ اپنی محبت کو ٹھکرا دیتی ہے اور ایک دیہاتی فواد کگھا (ہمایوں سعید) سے شادی کا فیصلہ کر لیتی ہے۔  آخری خامی بینک الفلاح اور مکڈونلڈز کی بھونڈے طریقے سے تشہیر ہے، جنہوں نے غالباً اس فلم کو سپانسر کیا ہے۔ بہتر ہوتا اگر فلم کے آغاز میں ٹائٹلز میں ان کا بڑے حروف میں نام لکھ کر شکریہ ادا کر دیا جاتا۔

مجموعی طور پر یہ ایک فیملی فلم ہے جسے آپ جا کر اپنے گھر والوں کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں اور سینما سے ہنستے ہوئے نکلیں گے۔ ہم اس فلم کی کامیابی پر ہمایوں سعید اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

70th Independence Day of Pakistan celebrated by PTI New South Wales Team

 

Pakistan Tehreek-e-Insaf New South Wales chapter under the leadership of president Muhammad Waqas Bashir brought a beautiful national function for the Australian Pakistanis on the 12th of August 2017 in order to celebrate the 70th anniversary of Pakistan. A very huge presence of Pakistanis proved that they believe PTI Australia to be the real representatives of their motherland in Australia.

There was no VIP in the function and everyone was treated with respect and dignity. Program was hosted by highly talented and skilled Salik Hameed and Farjad Mehmood. Zahir Hussain, Naeem ul Haq, Imran Mirza, Khursheed Chaudhry, Saeed Chaudhry and others supported them in managing the contents and performances.

In order to appreciate the team efforts and congratulate Australian Pakistanis Mr. Jahangeer Tareen (MNA) and the candidate for NA-120 Dr. Yasmin Rashid also addressed the audience by video link. Program was well structured and did not have too many speeches. Healthy competitions were arranged for the kids and the families.

DJazz (Shahid, Sudais and Shayan) performed three beautiful songs which were highly appreciated by the audience. Rabt band also preformed three beautiful songs including Dil Dil Pakistan and got great appreciation.

President Muhammad Waqas Bashir in his speech highlighted the role of overseas Pakistanis in educating their friends and families in Pakistan so that they could select the honest leadership in the upcoming elections. Documentaries were also shown about the struggle of our founders.

We congratulate PTI NSW team on organising such a beautiful and well organised event.

For my friends who support PMLN and Sharif Family (in Urdu)

JIT

مسلم لیگ نون کے حامی دوستوں اور عزیزوں کے نام

آج کل دنیا بھر میں جے۔آئی۔ٹی رپورٹ کا ہنگامہ برپا ہے۔ میرے چند بہت پیارے دوست اور نہایت قریبی عزیز و اقارب مسلم لیگ  نون اور میاں نواز شریف کو بہت پسند کرتے ہیں اور اس رپورٹ کے آنے کے بعد بہت پریشان اور ناراض ہیں کیونکہ ان کے خیال میں عمران خان اور دیگر ملک دشمن قوتیں پاکستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتیں اور اسی لئے میاں صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں۔

آئیے آج میں اس بارے میں بالکل ایمانداری سے اپنی رائے پیش کرتا ہوں۔ میں چاہے عمران خان کا حامی ہوں لیکن اس وقت میں بالکل غیر جانبدار ہو کر اپنا تجزیہ پیش کرتا ہوں۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے کوئی شاہی ریاست نہیں۔ یہاں عوام ووٹ دے کر اپنے حکمران نمائندے منتخب کرتے ہیں جو ملک کے لئے قانون سازی کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے آپ میاں نواز شریف اور ان کی وزارت عظمٰی کے تینوں ادوار کا جائزہ لیں تو حیران رہ جائیں گے۔۔۔ انہیں شہباز شریف کے علاوہ کوئی اور نہیں ملا جسے پنجاب کی وزارت اعلٰی کے لئے مناسب سمجھتے۔ اسی طرح اب مرکز میں ان کی بیٹی  مریم نواز کو تیار کیا جا رہا تھا کہ اگلی مرتبہ وزارت عظمٰی کی امیدوار وہ ہوں گی۔ میں پوچھتا ہوں کیوں؟؟؟ احسن اقبال، سعد رفیق، خواجہ آصف اور چوہدری نثار جیسے منجھے ہوئے سیاست دانوں کا کیا قصور ہے کہ ان میں سے کوئی یہ عہدہ نہیں سنبھال سکتا؟؟؟ اسی طرح پنجاب کی حکمرانی کے لئے حمزہ شہباز شریف کو تیار کیا جا رہا ہے۔ کیا پاکستان ان کے باپ کی جاگیر ہے؟؟؟؟ نازک ترین حالات میں بھی نواز شریف نے وزارت خارجہ کا اہم ترین منصب اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ کیا ان کی پوری پارٹی میں ایک بھی قابل انسان نہیں جسے یہ عہدہ دیا جا سکے؟؟؟

ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے ۱۲ افراد کو انہوں نے قتل کروا دیا لیکن حرام ہے جو کسی کو انصاف ملا ہو اور قاتلوں کو کوئی سزا ملی ہو۔ اسی طرح ایک اور انتہائی تشویش ناک بات یہ ہے کہ نواز شریف ہمیشہ اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران وہاں مقیم پاکستانیوں اور دیگر بزنس اونرز (Business Owners) کو پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں سرمایہ کاری کرنے پر قائل کرتے نظر آتے ہیں کہ  ہمارے ملک میں انویسٹ کریں۔ ہم ہر طرح کی ضمانت دیتے ہیں۔ جبکہ ان کی اپنی انویسٹمنٹ سعودی عرب اورہمارے  دشمن ملک بھارت میں ہے۔ پاکستان کا وزیر اعظم ہوتے ہوئے دشمن ملک میں انڈسٹری لگانا نواز شریف کی ملک دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔

اب آتے ہیں اصل بات کی طرف۔۔   مے فیئر فلیٹس لندن کے بارے میں مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز کے بیانات میں اتنا واضح تضاد ہے کہ اس کی کوئی وضاحت دی جا ہی نہیں سکتی۔ ان کے بیانات کے ویڈیو یو ٹیوب پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ کھلِ عام جھوٹ بولا جا رہا ہے۔قطری شہزادے سے ایک جعلی  خط تیار کروایا گیا جو جعلی ثابت ہوا۔

 پاکستان سے دولت نکال کر، جس کے ذرائع بھی واضح نہیں، بغیر ٹیکس ادا کئے لندن منتقل کی گئی۔ ایک خط جس نے اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کیا وہ مریم کی حقیقت کھلنے  کا باعث  بنا۔ اس خط  پر ۲۰۰۴ء کی تاریخ درج ہے اور مریم کے دستخط ہیں لیکن Calbri  کا جو فونٹ استعمال کیا گیا ہے وہ مائیکرو سافٹ نے جنوری ۲۰۰۷ ء میں لانچ کیا تھا، یعنی کہ یہ خط بعد میں جعل سازی سے تیار کیا گیا۔ یہ ٹیکنکل غلطی اس خاندان کے لئے بہت بھاری ثابت ہوئی۔ اور بھی بہت کچھ ہے لکھنے کو لیکن میرے خیال میں اتنا ہی کافی ہے کہ یہ خاندان ملک اور اپنی پارٹی کے وفادار  ساتھیوں کے ساتھ کس حد تک مخلص ہے۔ لہٰذا میری آپ سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ اپنی آنکھیں اور دل کھول کر پوری سچائی سے سوچیں اور ان لوگوں کی ناجائز حمایت اور پوجا کرنا چھوڑ دیں۔ اب عدالت کو ان سے نمٹنے دیں۔ انشا اللہ زرداری کی باری بھی جلد آنے والی ہے اور پیپلز پارٹی کا بھی جنازہ جلد نکل جائے گا۔

Saudi Arabia’s attitude with Qatar and Iran – a question mark (in Urdu)

سعودی عرب کا ایران اور قطر سے رویہ اور ٹرمپ کی حمایت اسلامی ممالک کے لئے دکھ و تعجب کا باعث

دنیا بھر کے مسلمان ہمیشہ سے سعودی عرب کو ایک خاص عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے آئے ہیں کیونکہ اس ملک میں اللہ کا گھر ہے اور محسن انسانیت نبی کریم حضرت محمد ﷺ کا روضہ مبارک بھی اسی ملک کے شہر مدینہ میں واقع ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں مسلمان عمرہ اور حج کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں، جس سے سعودیہ کی حکومت کو معاشی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔

گذشتہ ماہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ  ٹرمپ نے عرب امریکہ کانفرنس میں شرکت کی ۔ حیران کن طور پر شاہ سلمان نے خود ایرپورٹ جا کر ان کا استقبال کیا۔ جبکہ پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کا استقبال کرنے کے لئے دیگر حکومتی ارکان کو بھیجا گیا۔ سعودی حکمرانوں نے امریکہ کی غلامی کی انتہا کر دی۔۔۔۔ ٹرمپ جس نے سات ملکوں کے مسلمانوں کے امریکہ داخل ہونے پر پابندی لگا دی تھی، اسے پیر و مرشد کا درجہ دیا گیا اور اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے معاہدے کئے گئے۔ اسی پر بس نہیں کی گئی، بلکہ ایران کے خلاف محاذ بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

ٹرمپ کے رخصت ہونے کے کچھ ہی دن بعد سعودی حکومت نے اچانک قطر سے تمام تعلقات منقطع کرنے اعلان کر دیا۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ چند اور عرب ممالک نے بھی یہی  کیا اور اس حد تک نفرت دکھائی گئی کہ قطر ایرویز کو سعودی عرب جانے والی پروازیں منسوخ کرنے کا کہہ دیا گیا، جس سے ہزاروں کی تعداد میں عمرہ کے لئے جانے والے مسافر دوحہ کے ائرپورٹ پر پھنس کر رہ گئے۔ ایران اور ترکی نے البتہ کھل کر قطر کی حمایت کی اور سعودیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پاکستان نے غیر جانبدار رہنے کا عندیہ دیا  ہے اور خواہش ظاہر کی ہے کہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات بحال ہونے چاہئیں۔

میری نظر میں یہ واقعات معمولی نہیں اور یوں لگتا ہے کہ اب نبی کریم  ﷺ کی پیشین گوئی پوری ہونے کا وقت قریب ہے کہ عرب ممالک کے درمیان ایک بڑی جنگ ہوگی۔ اسی طرح دنیا کے حالات جس طرح تبدیل ہو رہے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ اب حضرت عیسٰی علیہ السلام اور امام مہدیؓ  کا آنا کوئی دور کی بات ہے۔ دجال کی آمد بھی قریب دکھائی دیتی ہے اوردنیا اپنے اختتام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ وقت تیزی سے گزرنا، اچانک اموات ، بڑھتی ہوئی قتل و غارت اور بے حیائی، اور عورتوں کی تعداد میں  اضافہ سب قیامت کی وہ نشانیاں ہیں جو اب واضح ہو رہی ہیں۔

عرب ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو امریکہ کی غلامی سے نکلنا ہوگا  اور امت مسلمہ کو متحد کرنا ہوگا ورنہ ایک ایک کر کے امریکہ تمام اسلامی ممالک کو تباہ کر دے گا، جیسا کہ اس نے عراق، افغانستان، مصر اور شام کے ساتھ کیا ہے۔ سعودی عرب کی مثال اس شتر مرغ کی ہے جو مصیبت آتی دیکھ کر ریت میں سر ڈال لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مصیبت ٹل گئی۔ انہیں سمجھنا چاہیئے کہ ان کا نمبر بھی قریب ہے۔ پاکستان کو اس موقع پر اپنا بھرپور ادا کرنا چاہئے اور عرب ممالک کو یقین دلانا چاہئیے کہ وہ کسی مشکل صورتحال میں ان کا ساتھ دے گا۔ اسی طرح ایران اور افغانستان کو بھی پاکستان کے خلاف بھارت کا ساتھ دینے سے گریز کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ ہمارے دوست ہمیں چھوڑ کر بھارت کے کیمپ میں شامل ہو جائیں گے اور ہمارے ملک کو غیر مستحکم کرنے میں دشمن کا ہاتھ بٹائیں گے۔

 

Our attitude as Pakistani and Indian expatriates in Australia

Pak-India flags

When I migrated to Australia permanently in 2010 I decided to make this beautiful country my home. I taught my daughters that Australia is our home and we should feel proud on being residents of such a beautiful and developed country. However later I realised that unfortunately many Australian citizens who were born in India still show their hatred towards Pakistani born Australians. Few good people fighting against this negative attitude are Ejaz Khan, Zahid Minhas(serving the community through Radio Dosti program for last 20 years), Balbir Singh, Maqsood Nagi, Shagufta Zia, Rekha Maharaj Vikas Paul and Lucky Singh. I also try to promote friendship between Pakistani and Indian born Australians wherever possible.

Recently Sydney saw a sad incident that affected these efforts badly. Indian film awards show IFFAA was being organised here in which renowned Pakistani artists were also invited by the organisers. Tickets were selling very fast and Subcontinent community was eagerly waiting for the date of event. All of a sudden the event got cancelled. Initially the organisers informed that due to tensions between India and Pakistan, the Pakistani artists would not be participating in the event, and later they cancelled the whole event. Vikas Paul was one of the main organisers. He told later that he and other organisers received threats from RSS (Indian extremist religious group) members in Australia that they would not let it happen and would attack Indian celebrities in their own country who were participating in the event. On their pressure management decided to drop Pakistani artists initially and later cancelled the whole event.

It’s not something new. India has got more extremists than Pakistan has. In Pakistan religious vote makes 2.5% of the total votes cast, whereas in India RSS supported BJP got 60% of the total cast votes in their last polls.

I would like to request my Australian friends from India and Pakistan to take each other as Australians, not Indian or Pakistani. We much promote love and respect for each other so that we could create a better environment here. Anyone who promotes hatred must be left alone.

Advance Australia Fair

Pakistan Zindabad – Jay Hind

Malaysia – A peaceful and model Islamic state

After spending almost one week in Kuala Lumpur I can say without any doubt that Malaysia presents a wonderful image of Islam to its visitors from world over. I visited my Pakistani friend Khurram in a town Tronoh where you get amazed to see a newly established beautiful university UTP (University of Technology Petronas). Khurram and his loving wife both are doing there PhDs from the same university and have been living in Malaysia for more than five years.

Khurram told me that there are three main races living in Malaysia; Malay who are Muslims make 55% of the total population, Chinese (mostly Budhists) and Tamil Indians (Hindus). He added that Malaysian Muslims feel proud of their religion and their girls always wear Hijab to show their identity. Malaysian government is liberal and provides religious freedom to everyone living here. There is no street mosque in the Malaysia like Pakistan and other subcontinent countries, but you will find only large Mosques located on different parts of cities. Call for the Islamic prayer, i.e. Azaan is not read loud using the loudspeakers from these mosques, but only the prominent mosques are allowed to use the loudspeakers for this purpose.

Khurram also told me that also liquor is sold at the bars and hotels openly but Malaysian Muslims are not allowed to drink and Police take strict action if a local Muslim is found drinking or doing any major religiously prohibited act. Both Muslims and non-Muslims staff are found at the airports, railway stations, hotels and shopping centres. Kuala Lumpur is a beautiful and very developed city. It has modern transport system. Trains, monorail, busses, taxis and Uber are cheaper and easily accessible. There is a state owned free bus service GoKL that runs four routs which take you to important attractions of the city. People are very friendly and polite and most of them understand English. I loved visiting Malaysia and found it cheaper and better than Dubai and Abu Dhabi. I recommend all my Pakistani and Australian friends to visit Malaysia if they want to enjoy an affordable holiday excursion.

Death of two great literary ladies

Start of 2017 brought two tragedies for us within the first 50 days. On 12 January famous journalist and writer Rukhsana Noor passed away in Lahore after fighting for several years against cancer. She was wife of renowned film director Syed Noor. Her death is a big loss for the literary circle of Lahore. She was a very decent lady. I was lucky to meet her in Lahore in 2003 when she was doing a film song programme for Pakistan Television. She recorded my own composition for her program. She wrote many films for her husband Syed Noor, out which Punjabi film Choorian was the biggest success.

rukhsana-noor

Rukhsana Noor

Second loss was the death of amazing writer, novelist, widow of Ashfaq Ahmed, Mohtarma Bano Qudsia; who breathed her last in Lahore on 4 February 2017. She was regarded as the best female spiritualist who left a long list of mourners behind her. I came to know about her skills and talents through Mumtaz Mufti’s book Alakh Nagri (الکھ نگری). Mufti writes that Bano was a wonderful person in every role. She was a very dedicated housewife, a loving mother and amazingly talented thinker and philosopher. As per Mufti she was much more genius than her legendary husband Ashfaq Ahmed, however she always supported him. Bano’s novel Raja Gidh (راجہ گدھ) is regarded as one of the best novels in the history of Urdu literature. My friends Imran Mufti in his recent meeting with me in Lahore made me surprised by telling that Bano was a converted Muslim who left Christianity and embraced Islam before getting married to Ashfaq Ahmed.

bano-qudsia

Bano Qudsia

I pray to Allah SWT to bless both of the great ladies with high ranks in Jannat ul Firdous and grant patience to their family members.

Pathetic service by Etihad Airways and Pakistan International Airlines

Recently I had experience of traveling with Etihad Airways on my visit to Pakistan. When I booked my return tickets for Sydney-Lahore-Sydney including transit in Abu Dhabi, I was informed that Etihad arranged my flight from Abu Dhabi to Lahore through their partner airline PIA. I had planned two day stay in Abu Dhabi and Dubai during my transit. I left from Sydney by Etihad Airways flight for Abu Dhabi on the 7th of December 2016. It was a 14 hour long flight. I was highly disappointed to see the poor level of service from the crew. I turned crew service light on 3 times to ask for coffee, which had not been served. No one came to me at all. Then I requested a passing air hostess to serve me the coffee.

When I was about to take my flight from Abu Dhabi for Lahore I was informed at the airport that PIA cancelled the flight. I contacted Etihad Airways through telephone and requested the telephonic representative to provide me the information about the flight arrangements for Lahore. He told me that he had emailed my request to the concerned staff and they would contact me shortly. I received not even a single call or email from Etihad. Now I got worried because my wedding function was planned on the following day. In short I kept running between the PIA and Etihad offices and none of them put any consideration on my issue. PIA was not assisting the angry passengers properly and they were highly upset. Later on my request one PIA staff member advised me that I should have brought a new ticket for Lahore, through Karachi in business class as no seat was available in the economy class. I had to pay almost AED 1,500 extra for this journey.

After this bad experience I would never ever travel through Etihad and PIA. Both airlines provide pathetic services to the travellers. It’s far better to travel by Thai Airways or Emirates Airlines.