Saudi Arabia’s attitude with Qatar and Iran – a question mark (in Urdu)

سعودی عرب کا ایران اور قطر سے رویہ اور ٹرمپ کی حمایت اسلامی ممالک کے لئے دکھ و تعجب کا باعث

دنیا بھر کے مسلمان ہمیشہ سے سعودی عرب کو ایک خاص عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے آئے ہیں کیونکہ اس ملک میں اللہ کا گھر ہے اور محسن انسانیت نبی کریم حضرت محمد ﷺ کا روضہ مبارک بھی اسی ملک کے شہر مدینہ میں واقع ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں مسلمان عمرہ اور حج کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں، جس سے سعودیہ کی حکومت کو معاشی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔

گذشتہ ماہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ  ٹرمپ نے عرب امریکہ کانفرنس میں شرکت کی ۔ حیران کن طور پر شاہ سلمان نے خود ایرپورٹ جا کر ان کا استقبال کیا۔ جبکہ پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کا استقبال کرنے کے لئے دیگر حکومتی ارکان کو بھیجا گیا۔ سعودی حکمرانوں نے امریکہ کی غلامی کی انتہا کر دی۔۔۔۔ ٹرمپ جس نے سات ملکوں کے مسلمانوں کے امریکہ داخل ہونے پر پابندی لگا دی تھی، اسے پیر و مرشد کا درجہ دیا گیا اور اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے معاہدے کئے گئے۔ اسی پر بس نہیں کی گئی، بلکہ ایران کے خلاف محاذ بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

ٹرمپ کے رخصت ہونے کے کچھ ہی دن بعد سعودی حکومت نے اچانک قطر سے تمام تعلقات منقطع کرنے اعلان کر دیا۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ چند اور عرب ممالک نے بھی یہی  کیا اور اس حد تک نفرت دکھائی گئی کہ قطر ایرویز کو سعودی عرب جانے والی پروازیں منسوخ کرنے کا کہہ دیا گیا، جس سے ہزاروں کی تعداد میں عمرہ کے لئے جانے والے مسافر دوحہ کے ائرپورٹ پر پھنس کر رہ گئے۔ ایران اور ترکی نے البتہ کھل کر قطر کی حمایت کی اور سعودیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پاکستان نے غیر جانبدار رہنے کا عندیہ دیا  ہے اور خواہش ظاہر کی ہے کہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات بحال ہونے چاہئیں۔

میری نظر میں یہ واقعات معمولی نہیں اور یوں لگتا ہے کہ اب نبی کریم  ﷺ کی پیشین گوئی پوری ہونے کا وقت قریب ہے کہ عرب ممالک کے درمیان ایک بڑی جنگ ہوگی۔ اسی طرح دنیا کے حالات جس طرح تبدیل ہو رہے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ اب حضرت عیسٰی علیہ السلام اور امام مہدیؓ  کا آنا کوئی دور کی بات ہے۔ دجال کی آمد بھی قریب دکھائی دیتی ہے اوردنیا اپنے اختتام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ وقت تیزی سے گزرنا، اچانک اموات ، بڑھتی ہوئی قتل و غارت اور بے حیائی، اور عورتوں کی تعداد میں  اضافہ سب قیامت کی وہ نشانیاں ہیں جو اب واضح ہو رہی ہیں۔

عرب ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو امریکہ کی غلامی سے نکلنا ہوگا  اور امت مسلمہ کو متحد کرنا ہوگا ورنہ ایک ایک کر کے امریکہ تمام اسلامی ممالک کو تباہ کر دے گا، جیسا کہ اس نے عراق، افغانستان، مصر اور شام کے ساتھ کیا ہے۔ سعودی عرب کی مثال اس شتر مرغ کی ہے جو مصیبت آتی دیکھ کر ریت میں سر ڈال لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مصیبت ٹل گئی۔ انہیں سمجھنا چاہیئے کہ ان کا نمبر بھی قریب ہے۔ پاکستان کو اس موقع پر اپنا بھرپور ادا کرنا چاہئے اور عرب ممالک کو یقین دلانا چاہئیے کہ وہ کسی مشکل صورتحال میں ان کا ساتھ دے گا۔ اسی طرح ایران اور افغانستان کو بھی پاکستان کے خلاف بھارت کا ساتھ دینے سے گریز کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ ہمارے دوست ہمیں چھوڑ کر بھارت کے کیمپ میں شامل ہو جائیں گے اور ہمارے ملک کو غیر مستحکم کرنے میں دشمن کا ہاتھ بٹائیں گے۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s