A blog on Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) in Urdu

IK Speech

پاکستان کے لئے 2015 ایک اہم سال ہے۔ 2014ء کے آخری دنوں میں پاک فوج نے  دہشت گردوں کے خلاف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں فیصلہ کن  آپریشن شروع کیا جو کامیابی سے جاری ہے اور بتدریج امن و امان کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔   ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی بے نقاب ہو گئی ہے اور زرداری صاحب ملک چھو ڑ کر جا چکے ہیں۔۔۔۔۔

پاکستان تحریک انصاف جو الیکشن میں ہونے والی دھاندلی  کے خلاف اعلٰی عدلیہ  اور الیکشن کمیشن سے انصاف کی توقع کر ہی تھی بالآخر مقدمہ ہار گئی اور الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا کہ بے ضابطگیاں تو ہوئی ہیں لیکن منظم دھاندلی نہیں ہوئی۔ اسی دوران پاکستانی قوم نے ایان علی کے کیس میں انصاف ہوتا بھی دیکھا اور یہ بھی کہ کس طرح تفتیش کرنے والے  کسٹم کے تفتیشی افسر اعجاز چوہدری کو راولپنڈی میں دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا۔ چند دن بعد ہی ایان علی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔  مقتول انسپکٹر کے لواحقین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔۔۔۔۔

عمران خان صاحب بد قسمتی سے  اس عدلیہ سے انصاف کی توقع کر رہے تھے جس نے آج تک نون لیگ کے خلاف فیصلہ نہیں دیا۔ یہ وہ عدالت ہے جو ماڈل ٹاؤن لاہور میں قتل ہونے والوں کو انصاف دینے سے معذور ہے اور اسی طرح جو دھاندلی کے ثبوت ملنے پر برطرف ہونے والے خواجہ سعد رفیق  کو بحال کرنے میں ایک منٹ نہیں لگاتی۔ جو لوگ خان صاحب  اور ان کی پارٹی کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ   خامیاں ہونے کے باوجود وہ کم از کم ایماندار ہیں۔ انہوں نے نہ کسی کی جان لی ہے اور نہ ملک کا پیسہ لوٹا ہے۔ وہ پاکستان میں ایسا نظام لانا چاہتے ہیں جس میں سب کو انصاف، صحت اور  زندگی کی بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ جہاں  کوئی وی۔آئی۔پی نہ ہو اور سب کو قانون کی نظر میں یکساں مقام حاصل ہو۔  ایک ایسا پاکستان جہاں سب امیر لوگ ایمانداری سے ٹیکس دیں۔۔۔۔

آپ شوق سے خان صاحب کی مخالفت کریں لیکن پھر یاد رکھیں کہ ملک میں کبھی بھی انصاف کا نظام قائم نہیں ہوگا اور ہم ہمیشہ چھوٹی اور بڑی برائی میں سے انتخاب کرتے رہیں گے۔ عمران خان صاحب ہماری آخری امید ہیں اور اگر ہم نےان کی قدر نہ کی تو ہم ہمیشہ اچھے وقت کے منتظر ہی رہ جائیں گے۔ آج اللہ نے ہمیں بہت سی نعمتوں سے نواز رکھا ہے اس لئے ہمیں ان کے دکھوں کا  احساس نہیں ہوتا جن پر ظلم ہو رہا ہے۔  عمران خان کی جس طرح سے کردار کشی کی جا رہی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ لیکن ایک اچھی خبر یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اندر مثبت تبدیلیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔  سڈ نی، آسٹریلیا میں مقیم پاکستانیوں نے الیکشن کمیشن کے  متنازعہ فیصلے کے  بعد تحریک انصاف کے اوورسیز چپٹر کو کثیر تعداد میں جوائن کیا ہے ۔

انشا اللہ جلد ہی راقم بھی اس پلیٹ فارم سے اپنا ادبی کردار ادا کرنا شروع کر  رہا ہے۔ ہم ہمت ہارے نہ ہاریں گے۔ اپنے کپتان پر ہمیں فخر ہے اور ہم ان کی قیادت میں متحد ہیں۔

پاکستان زندہ باد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s