Where do we stand??? (Urdu Blog)

ہم مردہ قوم ہیں، شرمندہ قوم ہیں

چند روز قبل لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں ہونے والے خودکش دھماکوں اور ان کے بعد کے رد عمل نے مجھے عجیب سے کرب میں مبتلا کر دیا ہے اور سمجھ نہیں آتا کہ ان واقعوں کے بعد کیسے اپنے ہم وطنوں سے کوئی اچھی امید رکھیں۔۔۔۔۔

ہمیں اپنے زوال کو سمنجھنے کے لئے 2010ء میں جانا ہوگا۔ سیالکوٹ میں ہجوم نے اسکول کے طلباء دو بے قصور بھائیوں مغیث اور منیب کو پولیس کی موجودگی میں سفاکانہ تشدد کر کے جان سے مار ڈالا اور کوئی انہیں روک نہ سکا۔ مرنے کے بعد ان کی لاشوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔ آج تک کسی فرد کو بھی اس جرم کی سزا نہیں ملی۔۔۔۔۔

 جنوری 2011ء میں ایک امریکی ڈپلومیٹ (درحقیقت جاسوس) ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں دو نوجوانوں فہیم اور فیضان کو گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ بظاہر بڑے ایماندار اور قابل وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف نے اسے فوری طور پر گرفتار کروا دیا اور کہا کہ ورثاء کو انصاف ملے گا۔ لیکن انتہائی افسوس ناک واقعہ یہ پیش آیا کہ مقتول فہیم کی بیوہ شمائلہ نے خودکشی کر لی اور یہ بیان چھوڑا کہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔ اس کی موت کے بعد یہی ہوا اور اس خاندان کو جبراً پیسے اور دھمکیاں دے کر خاموش کروا دیا گیا۔۔۔۔۔

آگے چلیں۔۔۔ 2012ء میں کراچی میں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ ایک پولیس انسپکٹر کے انتہائی شریف بیٹے شاہ زیب خان کو ایک وڈیرے کے آوارہ بیٹے شاہ رخ جتوئی نے اپنے ملازم کے ساتھ معمولی سی تلخ کلامی پر قتل کر دیا۔ قاتل کو گرفتار کر لیا گیا، لیکن وہ جب بھی عدالت میں پیش ہوتا تھا اپنے ہاتھ سے وکٹری (فتح) کا نشان بناتا تھا اور اس کے چہرے پر ایک خبیثانہ مسکراہٹ ہوتی تھی جو یہ پیغام دے رہی ہوتی تھی کہ اسے کبھی بھی سزا نہیں ہوگی۔ اور ایسا ہی ہوا۔ کچھ عرصہ بعد ان لوگوں نے انسپکٹر کے خاندان کو دھمکیاں (اور شاید رقم بھی) دے کر صلح کرنے پر مجبور کر دیا اور یوں قاتل شاہ رخ آزاد ہو گیا اور انصاف ہمیشہ کے لئے مر گیا۔۔۔۔۔

 جولائی 2005ء میں آمنہ مسعود جنجوعہ کے شریف اور بے گناہ شوہر جناب مسعود جنجوعہ کو گھر سے اٹھا لیا گیا۔ ان کی طرح اور بہت سے افراد کو کوئی جرم   بتائے بنا مشرف دور میں ایجنسیوں نے اٹھا کر لاپتہ کر دیا۔ آج تقریباً دس سال ہو گئے اور ان سینکڑوں افراد کا ان کے گھر والوں کو کچھ پتا نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔۔۔ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ لواحقین سڑکوں پر رل گئے ہیں لیکن عدالت کی اتنی مجال ہی نہیں کہ فوج یا کسی اور ادارے سے ان کے بارے میں تفتیش کر سکے۔۔۔۔۔

نومبر 2014ء کو ایک انتہائی الم ناک واقعہ پیش آیا جب کوٹ رادھا کشن میں ایک مسیحی میاں، بیوی شہزاد اور شمع کو توہین قرآن کا جھوٹا الزام لگا کر زندہ جلا دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد سے آج تک ان کے خاندان والے انصاف کے منتظر ہیں اور اپنے پیاروں کی یاد میں نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں۔۔۔۔۔

اور پیچھے جائیں تو بلدیہ ٹاؤن کراچی کی فیکٹری کو جس طرح سے آگ لگا کر غریب محنت کشوں کا قتل ایم۔کیو۔ایم کے غنڈوں نے کیا، اور جس طرح ماڈل ٹاؤن لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے 14 افراد کو پولیس نے پنجاب حکومت کے حکم پر مارا، اس کی مثال نہیں ملتی۔۔۔۔۔

پاکستان عرصہ دراز سے دہشت گردی کا نشانہ بن رہا ہے۔ بے چارے اہل تشیع اور پولیس و افواج بطور خاص اور عام لوگ بالعموم دہشت گردوں کے ہاتھوں جانی و مالی نقصان برداشت کر رہے ہیں۔ تاہم ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی خودکش دھماکے کے بعد وہاں عوام نے توڑ پھوڑ کرنے کے ساتھ کسی کی جان سے کھیلا ہو۔ لاہور میں یوحنا آباد کے الم ناک واقعہ نے بربریت کی ایک نئی داستان رقم کی ہے۔ دھماکوں کے بعد مشتعل مسیحی لوگوں نے سرکاری اور پرائیویٹ املاک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ دو معصوم مسلمانوں کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنا کر جان سے مار دیا بلکہ ان کے جسموں کو آگ لگا دی اور موبائل سے ویڈیو اور تصاویر بھی بنائیں۔ ایک شریف کار سوار عورت کو بھی مارنے کی کوشش کی جس نے اپنی جان بچانے کے لئے گاڑی بھگا دی اور اس کوشش میں تین افراد گاڑی سے کچل کر ہلاک ہو گئے۔۔۔۔۔

ان سب واقعات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم ناکام ہو چکے ہیں۔ قائد اعظم نے اس قوم سے بہت غلط امیدیں وابستہ کی تھیں اور ہم ہرگز آزادی کو ڈیزرو نہیں کرتے تھے۔ نواز شریف ہو یا آصف زرداری اور یا پھر الطاف حسین، یہ سب اندر سے ایک ہیں اور ایک دوسرے کو سنبھالتے رہیں گے۔ موجودہ نون لیگی حکومت تمام تر ثبوت ہوتے ہوئے بھی ایم۔کیو۔ایم کے بدمعاش گورنر عشرت العباد خان کو نہیں ہٹا سکی۔ زرداری نے ڈوبتے الطاف حسین کو اپنی مکمل حمایت کا ایک دفعہ پھر یقین دلایا ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی میں کوئی نہیں بولے گا کہ یہ غلط ہے۔ سب کے ضمیر مر چکے ہیں۔۔۔۔۔ دراصل ہم سب اندر سے مر چکے ہیں اور بس سانس لینے کی حد تک زندہ ہیں۔ جانے ہم کب جاگیں گے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں گے؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s