Difference between ‘Bidaa’ and ‘Aqeedat’ (in Urdu)

بدعت اور عقیدت میں فرق کو سمجھنا وقت کی ضرورت ہے

Eid Milad

میں نے جب سے ہوش سنبھالا اور اسلام کو سمجھنے کی صحیح طرح سے کوشش کی، مجھ پر یہ حقیقت کھلی کہ جس دین کو اللہ تعالٰی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہایت آسان بتایا، ہمارے مولویوں نے اسے کس قدر مشکل بنا دیا ہے۔

پاکستان میں شیعہ اور سُنیوں کے اختلافات کے علاوہ سُنیوں کے اپنے فرقوں مثلاً دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور وہابیوں کے اختلافات بھی بہت زیادہ ہیں۔ سب لوگ یہ بھول بیٹھے ہیں کہ دین میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ ایک، دوسرے کو غلط اور کافر قرار دینے سے مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ سب کی مسجدیں علیحدہ ہیں۔ آپ کسی بریلوی مسجد میں امام کی دوران نماز سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد اونچی آواز سے آمین نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح آپ رفع یدین کرتے ہوئےبھی گھبراتے ہیں۔ ایسے ہی کسی اہل حدیث کی مسجد میں آپ نماز کے بعد اونچی آواز میں درود نہیں پڑھ سکتے۔

میں نے چند سال متحدہ عرب امارات میں بھی گزارے، جہاں زیادہ تر مساجد میں امام شافع (رح) کے طریقے کو فالو کیا جاتا ہے، لیکن مجھے بڑی مسرت ہوتی تھی کہ کبھی جب میں لیٹ ہو جانے ہر اکیلا نماز پڑھ رہا ہوتا تھا، تو کوئی عرب انسان جو میرے بھی بعد مسجد میں داخل ہوا ہوتا تھا، میرے کندھے کو پیچھے سے ہلکا سا چھو کر مجھے احساس دلاتا تھا کہ اب ہم ایک جماعت میں نماز پڑھ رہے ہیں، اور میں امام ہوتا تھا۔ بعد میں آنے والے بھی جماعت میں شامل ہو جاتے تھے اور یوں ہم سب کو با جماعت نماز کا ثواب مل جاتا تھا۔ وہاں کوئی اس بات کو نہیں دیکھتا کہ امامت کرنے والا رفع یدین کر رہا ہے یا نہیں۔ نماز کے بعد سب لوگ اپنی، اپنی دعا مانگ کر رخصت ہو جاتے ہیں۔

ہم نے دین میں بے پناہ مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ میں ایک سُنی مسلمان ہوں اور بدعت سے بچنے کی حتی الوسع کوشش کرتا ہوں۔ ہم نے اپنے چھوٹے بھائی ماجد کی وفات پر اس کے قل اور چہلم نہیں کئے تھے کیونکہ ان چیزوں کا شریعت میں کوئی وجود نہیں اور یہ سراسر بدعت ہیں۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ انسان ہونے کے ناتے ہمارے جذبات ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ اس کی برسی پر ہم ضرور اداس ہوتے ہیں اور اس کی تعزیت کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اب میں اس موضوع کی طرف آتا ہوں جس نے مجھے یہ بلاگ لکھنے پر مجبور کیا۔ 12 ربیع الاول کی تاریخ کو دنیا کے تمام اسلامی ممالک نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاریخ ولادت کے طور پر مناتے ہیں۔ اس موقع پر لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد بھی دیتے ہیں اور پاکستان میں عمارتوں کو خوب سجایا بھی جاتا ہے۔ جبکہ بہت سے لوگ نذر اور نیاز کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔

میرے چند دوست اس دن کو عید کہنے کو اور منانے کو بدعت قرار دیتے ہیں۔ ان کی منطق یہ ہوتی ہے کہ 12 ربیع الاول کی تاریخ آپ (ص) کے وصال کی تاریخ ہے اور آپ (ص) کی تاریخ پیدائش پر امت میں اختلاف ہے۔ اسی طرح یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ (ص) کے یوم پیدائش کو منانا یا عید کہنا ہی غلط ہے، کیونکہ یہ صحابہ کرام (رض) سے ثابت نہیں۔ اسی طرح بہت سے دوست 10 محرم کو ایک غم کے دن کے طور پر منانے کے بھی سخت خلاف ہیں۔

میں چونکہ دین میں میانہ روی کا قائل ہوں اور بدعت کو بھی غلط سمجھتا ہوں، لہٰذا میری اس بارے میں رائے یہ ہے کہ ہمیں بدعت اور عقیدت میں فرق کو سمجھنا چاہئیے۔ جیسے آپ اپنی کسی کامیابی یا بیٹے، بیٹی کی سالگرہ پر خوشی مناتے ہیں اور دوستوں اور عزیزوں کو دعوت دیتے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی گناہ ہے۔ اسلام ہمیں محبت بڑھانے کا درس دیتا ہے اور دعوت دینے سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔ ہاں یہ لازم ہے کہ ان دعوتوں میں اسلام کے بنیادی اصولوں سے انحراف نہ کیا جائے۔ ناچ، گانے اور شراب جیسی قباحتوں سے بچا جائے اور جہاں تک مناسب ہو، پردے کا بھی اہتمام کیا جائے۔ ہر بات میں بدعت کو گھسیٹ کر لانے سے سانس لینا بھی مشکل ہو جائے گا۔ کیا ایک ماں اپنے بیٹے کا ماتھا چومے یا آپ قرآن کریم کو محبت سے چومیں تو یہ بھی بدعت ہے؟

اب میں آتا ہوں عید میلاد النبی (ص) اور عاشورہ محرم کی طرف۔ نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ تعالٰی نے تمام انسانیت کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ ہم سے زیادہ خوش قسمت امت کوئی نہیں جو آپ (ص) کو اپنا نبی مانتی ہے۔ میں تمام تر توجیہات کے باوجود اس مسلمان کو انتہائی بخیل قرار دوں گا جو آپ (ص) کی پیدائش پر اپنے مسلمان بھائیوں کو مبارک نہ دے۔ اگر 12 ربیع الاول پر اتفاق نہیں ہے تو پھر تمام عرب ممالک کیوں اسی دن کو آپ (ص) کی پیدائش کا دن تصور کرتے ہیں اور تعطیل کرتے ہیں؟ ہمیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ اسلام کبھی بھی خوشی کے اظہار سے منع نہیں کرتا۔ اگر کوئی اس دن چراغاں یا روشنی کرے تو اس میں ہرگز کوئی بری بات نہیں۔ روایات سے پتا چلتا ہے کہ ابو جہل نے آپ (ص) کی پیدائش کی خوشی منائی تھی، جس کی وجہ سے اسے دوزخ میں سے ہر سال اس دن نکالا جائے گا جس دن آپ (ص) دنیا میں تشریف لائے۔

ہاں جو لوگ نذر، نیاز وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں، ان کو چاہئیے کہ وہ سال کے باقی دنوں میں بھی غریبوں کو کھانا کھلانے کا انتظام کرتے رہیں، تاکہ یہ بدعت نہ بن جائے، اور غریب اور مسکین سال بھر صرف ان ہی دنوں کا انتظار نہ کرتے رہیں۔

اسی طرح 10 محرم کی بات ہے۔ یہ وہ دن ہے جس دن اسلام کے دشمنوں نے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان کو مٹانے کی کوشش کی اور آپ (ص) کے چہیتے نواسے امام حسین (رض) کو ان کے پیارے ساتھیوں سمیت پیاس کی حالت میں شہید کیا۔ یہی نہیں بلکہ امام (رض) کا سر مبارک نیزے پر رکھ کر یزید ملعون کے دربار میں پیش کیا۔ اس بات سے قطع نظر کہ میں سُنی ہوں اور شیعہ نہیں، میں اس دن کو ہمیشہ اداس ہوتا ہوں اور میرا دل ہی نہیں چاہتا کہ اس دن میں کوئی خوشی مناؤں، کیونکہ اس دن میرے پیارے نبی (ص) کے گھرانے پر خود کو مسلمان کہنے والوں نے ظلم کے پہاڑ توڑے۔۔۔۔۔۔ البتہ ماتم کرے اور خود کو مارنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے اندر امام عالی مقام (رض) کے اوصاف پیدا کریں اور ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کی عادت اپنائیں۔

عیسائی لوگ بیشک آج اپنے مذہب کو بہت زیادہ فالو نہیں کرتے لیکن وہ کرسمس کو حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کے طور پر بھرپور طریقے سے مناتے ہیں۔ ہمیں بھی ایک باوقار طریقے سے پیغمبر اسلام و انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یوم پیدائش شایان شان طریقے سے بدعت سے بچتےہوئے منانا چاہئیے اور ساتھ، ساتھ آپ (ص) کی تعلیمات کو بھی اپنانا چاہئیے، تاکہ ہم اپنی بخشش کا سامان کر سکیں۔

اللہ تعالٰی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s