New challenges faced by the Pakistani Society – final part (in Urdu)

terrorism

میں ان تمام قارئین کا تہہ دل سے مشکور ہوں، جنہوں نے اس فکر انگیز بلاگ کے پہلے دونوں حصے پڑھے اور میری کاوش کو سراہا۔ اب  آپ کی خدمت میں پیش ہے بلاگ کا آخری حصہ۔

دہشت گردی، فرقہ واریت اور بھتہ خوری

پاکستان ایک طویل عرصہ سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ ہم افغان جنگ میں کیا شامل ہوئے، ایک دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ افغان مہاجرین لاکھوں کی تعداد میں پاکستان میں رہنے مستقل طور پر آ گئے. ان لوگوں نے پاکستان کے کونے، کونے میں اسلحہ اور منشیات کا جال پھیلا دیا۔ اسی دوران  کراچی میں اردو بولنے والوں اور دیگر قوموں کے درمیان فسادات شروع ہو گئے، اور ایم۔کیو۔ایم ایک بدترین مصیبت بن کر اس منی پاکستان کے باسیوں پر نازل ہو گئی۔ 11/9 کے واقعے کے بعد ملک کے تمام علاقوں ، بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں بم دھماکوں اور خود کش حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔  شیعہ، سنی اختلافات جنرل ضیاء کے دور میں شروع ہوئے اور ان میں بعد میں آنے والے دنوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ۔جنرل مشرف کے ہاتھوں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں  پنجابیوں کو شناخت کر کے قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

13-2012ء میں بلوچستان میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے شیعہ افراد کو بہت بڑی تعداد میں قتل کیا گیا۔ کراچی کے بعد اسلام آباد میں بھی بھتہ خوری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ سے تاجر برادری بے حد پریشان ہے۔ کراچی میں اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی وجہ سے بے پناہ تاجر پنجاب یا بیرون ملک نقل مکانی کر گئے ہیں۔ جہاں طویل لوڈ شیڈنگ اور گیس اور بجلی بے پناہ مہنگی ہونے کی وجہ سے ہماری صنعت پہلے ہی بربادی کا شکار ہے اور لاکھوں مزدور بے روزگاری کا شکار ہیں، وہاں  ان حالات میں غریب کا چولہا جلنا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔ دوسری طرف طالبان نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم کرنے کے باوجود اگلے دن فوج کے ایک میجر جنرل اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کر دیا۔ ان حالات میں حکومت ایک مرتبہ پھر پریشانی کا شکار ہے کہ کیا کرے۔ ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ ابھی تک سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر (مرحوم) اور سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے اغوا ہونے والے بیٹوں کو تلاش نہیں کیا جا سکا، نہ ہی جی۔ایچ۔کیو اور سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کرنے والوں کا کوئی سراغ مل سکا ہے۔

کراچی میں بالآخر حکومت نے رینجرز کو کھلے اختیارات دیتے ہوئے آپریشن شروع کر دیا ہے۔ دیر آید، درست آید۔۔۔۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں ان لوگوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی جنہوں نے پوری سلطنت پاکستان کو ایک عذاب میں ڈال رکھا ہے۔ ہماری بہادر افواج ہر قسم کے دشمن سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہیں صرف حکومت اور قوم کا ساتھ چاہئیے۔ بھارت مسلسل افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔  حکومت کو چاہئیے کہ فوری طور پر افغان مہاجرین کو واپس ان کے ملک بھیجنے کا انتظام کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، افغانستان کے ساتھ بارڈر کو اس طرح  سے مضبوط بنایا جائے کہ کوئی بھی بغیر ویزہ لئے افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل نہ ہو سکے۔

جیسا کہ میں نے بلاگ کے پہلے حصے میں  بھی کہا کہ، عدالتوں میں ججوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ مقدمات کا فیصلہ جلد ہو اور جرائم پیشہ افراد کو سزا ہو سکے۔ پاکستان میں سکیورٹی کی باقاعدہ انڈسٹری بنائی جائے، جہاں سکیورٹی کا لائسنس مخصوص تربیت مکمل کرنے کے بعد جاری کیا جائے اور صرف لائسنس کے حامل افراد کو ہی سکیورٹی گارڈ کے طور ہر کام کرنے کی اجازت ہو۔ آسٹریلیا کی طرح حکومت تمام عوام سے اسلحہ واپس لے لے اور کسی کو بھی (سوائے پولیس، فوج اور سکیورٹی گارڈز کے) اسلحہ رکھنے یا اس کی نمائش کی اجازت نہ ہو۔ اسی طرح کسی وزیر، مشیر یا اعلٰی عہدیدار کو پولیس، عدلیہ اور  دیگر قانونی معاملات میں دخل اندازی کرنے پر فوری گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جائے اور یہ جرم نا قابل ضمانت ہو۔ قانون نافذ کرنے والے افراد کی تنخواہیں زیادہ ہوں تاکہ وہ قانون شکنی کرنے سے بعض رہیں۔ گواہوں کو حکومت تحفظ فراہم کرے اور ان کو ڈرانے یا دھمکانے والوں کو فوراً گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جائے۔

فرقہ واریت کو روکنے کے لئے مساجد اور امام بارگاہوں کو پابند کیا جائے کہ جمعہ کے علاوہ کسی نماز سے پہلے یا بعد میں امام یا کوئی اور آدمی خطبہ نہیں دے گا۔ جمعہ کا خطبہ تمام مساجد اور امام بارگاہوں کو  حکومت کی طرف سے جاری ہو، اور اس سے ہٹ کر پڑھنے والے کو گرفتار کر کے سزا دی جائے۔ اسکولوں میں دیگر فرقوں اور مذاہب کے ماننے والے لوگوں سے ہم آہنگی اور محبت کا درس دیا جائے۔ پولیس کی جدید خطوط پر تربیت کروائی جائے تاکہ وہ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری میں ملوث افراد تک فوری رسائی حاصل کر سکیں۔ ان جرائم کی سزا موت مقرر کر دی جائے اور ایسے لوگوں کو چوک میں سر عام پھانسی دی جائے۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ ہمارے پیارے ملک پاکستان کو امن و امان کا گہوارہ بنا دے اور ملک میں رہنے والے لوگوں کو آپس میں پیار، محبت اور اخوت سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

Advertisements

4 comments

  1. Excellent Shahid bhai.

    One suggestion, try to publish in other national and international urdu
    newspaper and magazines.

  2. Masha ‘Allah, well-written and very informative. Most of us are silent spectators just watching target killing rate rising all over Pakistan and no one has clues to the forces behind these gruesome crimes. Past governments and current government has been failed to address the trouble issues. Most of us worried about Pakistan future as Pakistani Society is deeply polarized, and becoming more religious and unfortunately more intolerant to other beliefs. I found these blogs very impressive in discussion of policy issues, and current social situation and a solution of controlling crimes in our country by appointing more judges to make a decision on crimes cases as quickly as possible. I think we need to shun extremism and give life and propriety a chance and they only way I see that happening is to streamline educational system and developing the country. The biggest problem our country faces today is our diverse religious beliefs and not understanding and shunning others.

  3. Arshad sahib thank you so much for your appreciation. You have an ‘eye’ to look the things in much more detail.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s