New challenges faced by the Pakistani Society – part 2 (In Urdu)

شاہ زیب خان

(شاہ زیب خان (مقتول

میں ان تمام لوگوں کا مشکور ہوں جنہوں نے اس بلاگ کے پہلے حصے کو پڑھا اور راقم کو اپنی قیمتی رائے سے بھی آگاہ کیا۔اب آتا ہوں بلاگ کے دوسرے حصے کی طرف۔۔۔۔۔

شاہ زیب خان قتل کیس

گذشتہ ہفتے پاکستانی قوم اس وقت بے حد اذیت سے دوچار ہوئی جب اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں اچانک یہ خبر آئی کی 2012 میں کراچی میں ایک وڈیرے کے بیٹے شاہ رخ جتوئی کے ہاتھوں ایک معمولی جھگڑے پرقتل ہونے والے شریف النفس ڈی۔ایس۔پی  اورنگزیب خان کے  اکلوتے جوان صاحبزادے شاہ زیب خان کے گھر والوں نے قاتل کو قصاص اور دیت کے نام پرمعاف کر دیا ہے۔ کسی کو بھی اس بات پر یقین نہیں آ رہا۔

یاد رہے کہ قتل کے فوری بعد شاہ رخ دبئی فرار ہو گیا تھا، جہاں سے شدید عوامی دباؤ پر اسے واپس کراچی لایا گیا۔ پھر ملزم کو نا بالغ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ سزا سے بچ سکے۔ دہشت گردی کی خصوصی عدالت  (Anti-terrorist court)نے اس جرم میں شاہ رخ کو سزائے موت سنائی تھی۔ اس سزا کے خلاف ملزم کی اپیل سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھی۔مختلف ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قاتل کے گھر والوں نے شاہ زیب خان کے گھر والوں کو 15 کروڑ روپے اور آسٹریلیا کی شہریت لے کر دی ہے۔مجھے اور بہت سے لوگوں کو جس چیز نے سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی وہ  شاہ رخ جتوئی کی وہ تصویر ہے جس میں وہ رہا ہونے کے بعد مسکراتے ہوئے فتح کا نشان بنا رہا تھا۔ اس تصویر کو فیس بک پر لوگوں نے خوب شیئر کیا، جہاں لوگوں نے اسے گالیاں دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔

اس واقعے کو سمجھنے کے لئے ہمیں ریمنڈ ڈیوس کے واقعے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ 27 جنوری 2011 کو لاہور میں ایک امریکی جاسوس نے فہیم اور فیضان نام کے دو نوجوانوں کو، جو موٹر سائیکل پر اس کا پیچھا کر رہے تھے، گولی مار کر قتل کر دیا۔ پنجاب حکومت کی ہدایت پر پولیس نے اسے گرفتار کے جیل میں ڈال دیا۔ امریکی حکومت پوری طرح سے حرکت میں آ گئی اور حکومت پاکستان پر اسے رہا کرنے کے لئے دباؤ ڈالنا  شروع کر دیا۔ اس دوران فہیم کی بیوہ  شمائلہ نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی۔ اس نے مرنے سے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہمیں انصاف نہیں ملے گا اور ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا جائے گا۔ اس کی موت کے بعد یہی ہوا۔ ریمنڈ کو بھی شاہ زیب کی فیملی کی طرح فہیم اور فیضان کے گھر والوں نے معاف کر دیا۔ تب بھی میڈیا میں یہ خبر آئی تھی کہ دونوں خاندانوں کو کروڑوں روپے ادا کئے گئے ہیں،قصاص اور دیت کے نام پر۔

بات دراصل یہ ہے کہ ان دونوں واقعات میں مقتولوں کے لواحقین  کو واضح پیغام دیا گیا کہ ان کے حق میں بہتر یہی ہے کہ وہ باعزت طور پر صلح کر لیں اور اس کے بدلے میں خطیر رقم لے کر خاموش ہو جائیں، ورنہ  دوسری صورت میں  انہیں ملے گا بھی کچھ نہیں اور طاقتور مجرم کو بھی کچھ نہیں ہوگا۔ اگر ہم شاہ زیب والے واقعے کو لیں تو اپنی گرفتاری کے بعد جب بھی ملزم (بلکہ مجرم) شاہ رخ پیشی کے لئے عدالت آیا تو اس نے ہمیشہ اپنے ہاتھ سے فتح کا نشان بنایا، جیسے اسے علم ہو کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔

 ماشا اللہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں ہم اور توقع ہی کیا کر سکتے ہیں۔ جہاں چیف جسٹس کے بیٹے کو سزا نہ ہو تمام تر ثبوتوں کے باوجود، جہاں جعلی ڈگری والے الیکشن لڑکر آرام سے اسمبلیوں میں آ جائیں، جہاں غریبوں کی بیٹیوں کی عزت لوٹنا سب سے آسان کام ہواور ایک پنجایت مختاراں مائی کے ساتھ جبراً زیادتی کے لئے 12 مسلمان مردوں کو اجازت دے، جہاں سیلاب میں جاں بحق ہونے والی خواتین کا زیور لوٹا جائے، جہاں رمضان میں بھی سرکاری دفاتر میں رشوت طلب کی جائے، جہاں نامی گرامی  سیاست دان سورۃ الاخلاص جیسی چھوٹی سورت کی تلاوت بھی نہ کر سکیں، جہاں ایک سکندر پورے اسلام آباد کو یرغمال بنا دے اور اسے کوئی پولیس والا ہاتھ بھی نہ لگا سکے، اور جہاں صدر اور وزیراعظم کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ دیں۔۔۔۔۔۔ ایسے معاشرے مردہ ہوتے ہیں اور وہاں فہیم، فیضان اور شاہ زیب کے لواحقین کے لئے اس کے سوا کوئی آپشن موجود نہیں ہوتی کہ اسلام کے نام کا غلط استعمال کرتے ہوئے قصاص اور دیت کے نام پر قاتلوں کو معاف کر دیں۔ ورنہ اگلا جنازہ بھی ان ہی کے گھروں سے اٹھے گا۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے)

Advertisements

2 comments

  1. We have a price. depends how much we need to sell ourselves or anything we could sell.

  2. And that’s the bitter reality. This is the reason I could not propose a solution for this grave situation as whole nation needs to be changed.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s