New challenges faced by the Pakistani Society – part 1 (In Urdu)

Rape cases

ملک میں آج کل جو ہو رہا ہے، اس پر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اپنے قلم کو استعمال میں لاؤں اور کچھ لکھوں لیکن وقت ہی نہیں مل رہا تھا۔ اردو میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ دیگر قوموں کے سامنے ہماری کچھ عزت رہ جائے، ورنہ کسر تو ہم نے کوئی نہیں چھوڑی اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کی۔

اس موضوع پر میں سلسلہ وار ۲ سے ۳  بلاگ لکھوں گا  کہ ایک بلاگ میں تمام باتیں کرنا ممکن نہیں۔

5 سالہ معصوم بچی سنبل خان سے زیادتی

اس واقعہ نے ہر باضمیر انسان کی طرح مجھے بھی بری طرح سے متاثر کیا ہے اور میں یہ سوچنے لگا ہوں کہ ہمارے نوجوان ایک دم اس قدر حیوانیت پر کیوں اتر آتے ہیں کہ وہ معصوم سے پھولوں کو روند ڈالتے ہیں۔ انہیں ان معصوموں کی چیخ و پکار بھی اس ظلم سے بعض نہیں رکھتی کہ جس پر انسان تو انسان حیوان بھی شرما جائے۔ کیا غریب کے لئے جینے کو کچھ بچا ہے پاکستان میں؟  اس واقعہ سے زیادہ تکلیف مجھے کسی احمق کی فیس بک پر ایک تصویر دیکھ کر پہنچی، جہاں اس نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی ایجنٹ قرار دیا اور اس کی حمایت کرنے والوں کی مذمت کی کہ اب وہ سنبل کی دفعہ خاموش ہیں۔ سبحان اللہ!ہمارے لوگ بھی اس قدر نا سمجھ ہیں کہ کبھی وہ ڈاکٹر عبدالقدیر، کبھی ڈاکٹر عافیہ اور کبھی ملالہ یوسفزئی کو رگڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ مشرف بدبخت نے ڈاکٹر قدیر کے ساتھ کیا سلوک کیا،  ملالہ کا منہ آپریشن کے بعد سے مسلسل ٹیڑھا ہے،  اور ڈاکٹر عافیہ قریباً دس سال سے امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ذلت کا نشانہ بن رہی ہے، جس کی گواہی اس کی امریکی وکیل دیتی ہے۔

خیر ایسے جاہل لوگوں سے کیا توقع رکھنا۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت جو چیز بہت بڑی پریشانی کا باعث ہے،  وہ ہے پاکستان میں بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے واقعات میں ہوشربا اضافہ۔ صرف سنبل کے واقعہ سے لے کر اب تک 4 سے  5 مزید واقعات ہو چکے ہیں جن میں بچوں اور کالج کی طالبات کو انفرادی اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کی نا اہلی ایک دفعہ پھر سب کے سامنے ہے۔ سنبل کے مجرم ابھی تک آزاد پھر رہے ہیں۔ باقی زیادتی کے واقعات میں اگر کوئی مجرم پکڑا بھی گیا تو علاقے کے لوگوں نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ بات یہ ہے کہ جب سیاسی بنیادوں پر کسی معیار کے بغیر نا اہل لوگوں کو پولیس جیسے اہم ترین محکمے میں بھرتی کیا جائے گا تو انہی نتائج کی امید کی جا سکتی ہے۔

اگر ہماری حکومت ان واقعات کی روک تھام کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ وزیروں کو بیرون ملک دوروں پر بھیجنے کی بجائے پولیس میں سے لائق فائق  اور قابل افراد کو برطانیہ، آسٹریلیا یا امریکہ کی پولیس سے ٹریننگ دلوائے۔ ان افسروں کو کسی معاملے کی تفتیش کرنے کے سائنٹیفک طریقے سکھلائے جائیں اور پھر ان سے مزید پولیس والوں کی تربیت کروائی جائے۔ پولیس میں ترقی کو ٹریننگ اور ٹیسٹ سے مشروط کر دیا جائے۔پاکستان میں پورنو گرافی (فحش مواد) کی صنعت بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس پر کوئی چیک اینڈ بیلینس نہیں۔ نوجوان انٹرنیت اور سی۔ڈیز پر غیر اخلاقی مواد دیکھتے ہیں اور پھر خود پر قابو نہیں پا سکتے تو دوسروں کی عزت پر حملہ کر دیتے ہیں۔ بچے ان کا آسان ہدف ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ قریبی  عزیز اور رشتہ دار ہی بچوں سے زیادتی میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

ہماری حکومت کو چاہئے کہ یا تو  مکمل طور پر اسلامی نظام اور سزائیں نافذ کرے۔ انٹرنیت پر فلٹر لگائے جائیں اور فحش سی۔ڈیز کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی جائے۔ اعلٰی عدالتوں میں ججوں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ انصاف کی فراہمی جلد سے جلد ہو سکے۔  زیادتی کے مجرموں کو چوک میں پھانسی دی جائے تاکہ وہ عبرت کا نشان بن جائیں۔  والدین کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ جوان ہوتے بچوں کی شادیاں جلد کریں۔ اس کے لئے سادگی کا کلچر اپنانا ہوگا اور نوجوانوں کو مغربی ممالک کی طرح ترغیب دینا ہوگی کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام بھی کریں۔ جہیز کی لعنت سے نجات پانی ہوگی۔ اسکولوں میں بچوں اور بچیوں کو سکھایا جائے کہ کسی مرد کی غیر اخلاقی حرکت پر فوراً اپنے والدین کو مطلع کریں۔

اگر حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو پھر معذرت کے ساتھ سیکس کو ایک صنعت کا درجہ دے کر بگڑے نوجوانوں کو سیکس ورکروں سے اپنی خواہشات پوری کرنے کی اجازت دے دے، تاکہ کم سے کم معصوم بچے اور شریف گھریلو خواتین ظلم سے بچ سکیں۔

(جاری ہے)

Advertisements

3 comments

  1. Sir, Could you please guide as to matrimonial match making service for Pakistanis/ Muslims in Australia including but not limited to certain famous internet websites.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s