Tribute to a great lady who passed away…. (in Urdu)

یہ بلاگ میں ایک ایسی مہربان اور عظیم خاتون کی نذر کر رہا ہوں، جو اب ہم میں نہیں رہیں۔ اردو میں لکھنے کا مقصد جذبات کی حقیقی عکاسی ہے۔ 21 اکتوبر 2012 کو دنیا سے رخصت ہونے والی یہ پیاری سی خاتون اپنے چاہنے والوں کو رلا رلا گئیں اور اپنے پیچھے انمٹ یادیں چھوڑ گئیں۔

خالد مسعود خان پاکستان کے ایک جانے پہچانے شاعر اور کالم نویس ہیں۔ ان کی اہلیہ سے ہماری پہلے ملاقات ایک وفات پر ہوئی۔ 1987 کی بات ہے کہ ہمارے دادا جان کا ملتان میں انتقال ہو گیا۔ ہم والد صاحب کے ساتھ لاہور میں مقیم تھے۔ ہم فوری طور پر ملتان پہنچے۔ ان دنوں میں اور میرا جڑواں بھائی راشد آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ بہرحال انکل خالد اور آنٹی سے ہماری پہلی ملاقات اسی موقع پر ہوئی۔ انکل ہمارے والد صاحب کے ماموں زاد بھائی ہیں۔ اس پہلی ملاقات میں ہی دونوں ہمیں بہت پسند آئے۔ ان دنوں خالد مسعود صاحب نے شاعری شروع نہیں کی تھی۔

آنٹی کے کینوس کے جاگر ٹائپ جوتوں سے ہم بڑے impress ہوئے اور ہم نے انہیں “جاگرز والی آنٹی” کا لقب دیا۔ بعد میں ہماری ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اللہ نے انکل اور آنٹی کو دو بہت ہی پیاری بیٹیوں سے نوازا۔ یہ بچیاں مجھ سے، راشد سے اور ہمارے پیارے مرحوم بھائی ماجد سے بہت ہی پیار کرتی تھیں اور ہمیں بڑے بھائیوں کا مقام دیتی تھیں۔ دوسری طرف انکل اور آنٹی کے ساتھ بھی ہمارا بے حد پیار تھا۔ وقت گزرتا رہا۔

اللہ نے بعد میں انہیں ایک اور بیٹی اور ایک پیارے سے بیٹے سے بھی نواز دیا۔ آنٹی کے بھانجوں اور بھانجیوں سے بھی ہماری کافی دوستی ہو گئی تھی۔ ایک دفعہ آنٹی اور انکل ہمیں بطور خاص ان سے ملوانے خانیوال لے کر گئے۔ ان کے رشتہ داروں نے ہمیں بہت اچھا welcome دیا جو ہمیں آج تک یاد ہے۔ آنٹی، انکل کے خاندان میں سے ہمیں سب سے زیادہ پسند کرتی تھیں اور ہمارے گھر کا ماحول انہیں بہت ہی پسند تھا۔ وہ جب بھی لاہور آتیں تو عموماً ہمارے ہی گھر میں قیام کرتیں۔ میرا کی بورڈ (keyboard) بھی فرمائش کر کے سنتیں، اور ہم خوب ہنسی مذاق کرتے۔

ماجد کی 2009 میں وفات پر انکل اور آنٹی سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سے تھے اور اسے قبر میں اتارنے کی سعادت بھی انکل نے حاصل کی۔ آنٹی نے اپنے تمام بچوں کی مثالی تربیت کی۔ انکل کی بے پناہ مصروفیت میں انہوں نے بچوں کو بھرپور توجہ دی۔ آج ماشا اللہ ان کی سب سے بڑی بیٹی ڈاکٹر اور دوسری انجینئر بن چکی ہیں۔ دونوں کے رشتے بھی ہو گئے ہیں۔ دونوں چھوٹے ابھی پڑھ رہے ہیں۔ آنٹی ایک طویل عرصے سے lungs کی بیماری میں مبتلا تھیں، لیکن اس کا پتا بہت ہی کم لوگوں کو تھا۔ مجھے بھی اس بات کا پتا پچھلے سال چلا۔ ہم ان سے ملنے بطور خاص ان کے گھر گئے۔ وہ بہت ہی اچھی طرح ملیں اور پرانی یادیں تازہ کرتی رہیں۔

14 اکتوبر کو مجھے ان کی بیٹی کے فیس بک اسٹیٹس سے پتا چلا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ میں نے فوراً ان کے گھر فون کیا۔ ان کی بیٹی نے فون اٹھایا اور میرے پوچھنے پر بتایا کہ ان کی حالت پہلے سے بہتر تھی۔ میرے بلانے پر آنٹی بطور خاص بات کرنے آئیں۔ وہ اتنی تازہ دم لگ رہی تھیں کہ جیسے انہیں کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مجھ سے بہت پیار سے بات کرتی رہیں اور ماضی کی خوبصورت یادوں کا ذکر کرتی رہیں۔ میں نے ان سے کہا، “آنٹی جلدی سے ٹھیک ہو جائیں۔ ہم آپ کو پھر جاگرز پہنے دیکھنا چاہتے ہیں”۔ وہ کھلکھلا کر ہنس دیں اور مجھے اپنی بڑی بیٹی کی نومبر میں ہونے والی شادی میں شرکت کی پرزور دعوت دی۔ میں نے معذرت کی کہ آسٹریلیا سے میرے لئے آنا ممکن نہ ہوگا تو کہنے لگیں، “بڑے خراب ہو۔۔۔۔۔ اتنی دور کیوں چلے گئے”؟ اور 21 اکتوبر کی رات 11 بجے وہ خود اتنی دور چلیں گئیں کبھی واپس نہ آنے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔

انکل خالد نے مجھے بعد میں بتایا کہ ان کی طبیعت اس دن بہت خراب تھی جس دن میں نےانہیں فون کیا تھا، اور وہ ان دنوں بہت ہی کم کسی سے فون پر بات کرتی تھیں۔ لیکن میرے فون کا سن کر وہ رہ نہیں پائیں اور بات کرنے آئیں۔ انکل نے یہ بھی بتایا کہ وہ تمام عمر ہم بھائیوں سے بہت محبت کرتی رہیں۔

میں آج اسے اپنی اور اپنے بھائیوں کی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ ایک نہایت بلند کردار اور عظیم عورت نے ہم سے اتنی محبت کی۔ ہم ان کے گھر والوں سے الگ نہیں اور ان کے غم میں شامل ہیں۔ ہم انہیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی والدہ ایک بہت ہی اعلٰی انسان تھیں، اور انکل اور انہوں نے اپنے بچوں کو بہت ہی اچھا اور پیار کرنے والا انسان بنایا ہے۔ ان کا بیٹا اور بیٹیاں بہت خوش قسمت ہیں کہ انہیں اتنے اچھے والدین ملے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ آنٹی مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے اور ان کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین!

Advertisements

4 comments

  1. To be honest, these words cannot describe her greatness. She will be missed forever.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s